حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجمعِ جهانی شیعہ شناسی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کویت کے حکمرانوں کی ناقابلِ معافی جسارت کی مذمت کی ہے اور مظلوم و مجاہد علما کی حمایت پر زور دیا ہے۔ اس بیانیہ کا متن حسبِ ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
«مِنْ أَجْلِ ذَٰلِکَ کَتَبْنَا عَلَیٰ بَنِیٓ إِسْرَآئِیلَ أَنَّهُ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِی الْأَرْضِ فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیعًا وَمَنْ أَحْیَاهَا فَکَأَنَّمَآ أَحْیَا النَّاسَ جَمِیعًا وَلَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنَاتِ ثُمَّ إِنَّ کَثِیرًا مِنْهُمْ بَعْدَ ذَٰلِکَ فِی الْأَرْضِ لَمُسْرِفُونَ» (مائده/۳۲)
’’اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جس نے کسی انسان کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد پھیلانے کے جرم کے بغیر قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی ایک انسان کو زندگی بخشی تو گویا اس نے تمام انسانوں کو زندگی بخشی۔ اور یقیناً ہمارے رسول ان (بنی اسرائیل) کے پاس کھلی ہوئی نشانیاں لے کر آئے لیکن اس کے باوجود ان میں سے بہت سے لوگ اس کے بعد بھی زمین میں ظلم و تعدی کرنے والے ہی رہے۔‘‘
آج جب عالمِ اسلام کو عالمی استکبار اور صیہونی حکومت کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اتحاد، یکجہتی اور مشترکہ جدوجہد کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے، ایسے میں خطے کے بعض ممالک میں ممتاز علما، نوجوانوں اور اہلِ ایمان کے خلاف ظالمانہ اور بے رحمانہ فیصلوں کی تشویش ناک اور افسوس ناک خبریں امتِ مسلمہ اور حوزاتِ علمیہ کی علمی شخصیات کے لیے گہرے دکھ کا باعث بنی ہیں۔
کویت کی ممتاز دینی شخصیت، مجاہد عالمِ دین اور عوام کے مخلص خادم، حاج شیخ حسین المعتوق (حفظہ اللہ) کے خلاف سزائے موت کے غیر منصفانہ اور افسوس ناک فیصلے کی خبر نے علمی مراکز، حوزاتِ علمیہ اور اسلامی معاشروں میں غم و غصے کی شدید لہر پیدا کر دی ہے۔
مجمعِ جهانی شیعہ شناسی کویت کے عدالتی نظام اور حکام کی جانب سے اس من مانے اور ظالمانہ اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس قسم کے غیر قانونی فیصلے محض ایک عدالتی مقدمے تک محدود نہیں بلکہ یہ مذہبی حقوق، انسانی وقار اور علمائے دین کے بلند مقام پر کھلا حملہ ہیں۔ یہ اسلامی معاشروں میں پُرامن بقائے باہمی اور باہمی احترام کی بنیادوں کو کمزور کرنے کی ایک ناکام کوشش بھی ہے۔
مجمعِ جهانی شیعہ شناسی کے علما مذکورہ قرآنی آیت ’’أَنَّهُ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ‘‘ کی روشنی میں اہلِ ایمان اور ممتاز علما کی جان و آبرو پر کسی بھی قسم کے ظلم اور زیادتی کو ناقابلِ معافی گناہ قرار دیتے ہیں۔
ہم حکومتِ کویت اور متعلقہ حکام سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس غیر منصفانہ فیصلے پر فوری نظرِ ثانی کرتے ہوئے اسے منسوخ کیا جائے۔ اسلامی اخوت، شیعہ شہریوں کے بنیادی حقوق اور ممتاز مذہبی شخصیات کے بلند مقام و مرتبہ کا احترام کیا جائے اور ایسے المناک سانحہ کو رونما ہونے سے روکا جائے جس کے خطے کے استحکام پر سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ علمائے ربانی اور امتِ مسلمہ کی فکری و دینی قیادت کے ساتھ امتیازی اور منفی سلوک صرف اسلامی ممالک کے درمیان اختلافات اور خلیج کو بڑھاتا ہے۔ اس کا نتیجہ اسلام کے کٹر دشمنوں بالخصوص امریکہ اور بین الاقوامی صیہونیت کی خوشنودی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
ہم بارگاہِ الٰہی میں دعا گو ہیں کہ وہ اسلامی حکمرانوں کو بیداری و بصیرت عطا فرمائے، ممتاز علما کی عزت و حرمت کی حفاظت فرمائے اور امتِ مسلمہ کو حتمی کامیابی و سربلندی نصیب فرمائے۔
سیکرٹریٹ، مجمعِ جهانی شیعہ شناسی










آپ کا تبصرہ